Posts
سلطان المخدومین حضرت سیدنا کمال الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمہ اور حسنِ اخلاقاز قلم: ناچیز ناصرؔ منیری کان اللہ لہڈائریکٹر : ریسرچ سینٹر، خانقاہ منیر شریفرابطہ نمبر: 9905763238عظیم الشان ہے رتبہ مِرے یحییٰ منیری کارفیع المرتبت اسوہ مِرے یحیٰ منیری کاسلطان المخدومین حضرت سیدنا کمال الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمۃ والرضوان اپنے وقت کے جلیل القدر صوفی بزرگ گذرے ہیں۔آپ نے تصوف کی تعلیمات عام کرنے میں اپنا تن من دھن سب کچھ تج دیا۔ آپ کے اخلاق بہت عمدہ تھے۔ جو بھی آپ سے ملتا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ جو اہل ایمان ہوتا، وہ تائب ہوتا اور جو اہل کفر ہوتا، مشرف بہ اسلام ہوجاتا۔وہ ہو جاتا مشرف دولتِ ایمان سے اس دمکوئی گر دیکھتا چہرا مِرے یحییٰ منیری کاآپ نے اخلاقیات پہ بہت زور دیا۔ لوگوں کے اخلاق سنوارنے میں آپ نے بہت محنت کی۔ ذیل میں حسنِ اخلاق کا درس پیش کیا جا رہاہے:حسن اخلاق آیاتِ قرآنیہ کی روشنی میں:قرآنِ پاک میں جا بہ جا حسن اخلاق کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ قرآن نے اخلاقیات پہ بہت زور دیا ہے۔کہا جاتاہے کہ فلاں اچھے خَلْق اور اچھے خُلُق یعنی اچھے ظاہر وباطن والا ہے۔ ظاہر کا حُسن خوب صورتی ہے جیسا کہ آپ جانتے ہيں اورباطنی حُسن سے مراد بُری صفات پر اچھی صفات کا غالب ہونا ہے اورباطن میں تفاوُت(یعنی فرق)، ظاہر میں تفاوت سے زیادہ ہوتا ہے اوراسی کی طرف پروردگارِ کائنات نے اپنے اس فرمانِ اقدس میں اشارہ فرمایا،جیسا کہ ارشاد ِخدا وندی ہے:اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿71﴾فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡیعنی: میں مٹی سے انسان بناؤں گا پھر جب میں اسے ٹھیک بنا لوں اوراس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں گا۔(پ23،ص:71۔72)پروردگارِ کائنات نے اس آیتِ مبارکہ میں آگاہ فرمایا کہ انسان کی ظاہری صورت مِٹی سے بنی ہوئی ہے اوراس کی باطنی صورت پروردگارِ کائنات کے عالَمِ اَمر سے ہے ۔ لہٰذا حُسنِ خُلق سے ہماری مراد باطنی صورت کا اچھاہونا ہے پس جس قدر بندہ بری صفات سے کنارہ کشی اختیار کرتاہے، اس کے بدے میں اچھی صفات پائی جاتی ہیں، یہی اچھے اخلاق ہیں اورحُسنِ اخلاق کی مکمل صورت تاج دارِ کائنات ﷺ کے لیے ہے، کیوں کہ تاج دارِ کائنات ﷺ حُسنِ اخلاق کے اس معنی میں درجۂ کمال پر فائز ہوئے۔ پروردگارِ کائنات نے آپ کے لیے ارشاد فرمایا:وانک لعلی خلق عظیمیعنی: (اے نبی مکرم ﷺ) آپ کے اخلاق انتہائی عظیم الشان ہیں۔(پ29،سورہ قلم)حسن اخلاق احادیثِ نبویہ کی روشنی میں: قرآن کے علاوہ حدیثوں میں بھی جگہ جگہ حسنِ اخلاق کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ جا بہ جا اخلاق سنوارنے کے احکام وارد ہوئے ہیں۔ جیسا کہ تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمانِ عالیشان ہے:رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِاِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ.یعنی:ہم چھوٹے جہادسے بڑے جہاد کی طرف پلٹے۔(الزھد الکبیر للبیھقی،الجز الثانی، فصل فی ترک الدنیا ومخالفۃ النفس والھوی، الحدیث۳۷۳،ص۱۶۵، مفہوماً)معلوم ہونا چاہیے کہ نفس کی کچھ بیماریاں ہیں جن سے اس کا پاک وصاف ہونا ضروری ہے اس طرح وہ ہمیشہ کی سعادت اوراللہ کا قُرب حاصل کرسکتا ہے۔حُسنِ اخلا ق کے تعلق سے تاج دارِ کائنات ﷺ مزید ارشاد فرماتے ہیں:اِنَّ حُسْنَ الْخُلْقِ یُذِیْبُ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا تُذِیْبُ الشَّمْسُ الْجَلِیْدَ.یعنی:بے شک اچھے اخلاق گناہ کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جس طرح سورج برف کو پگھلا دیتاہے۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی حسن الخلق ،الحدیث۸۰۳۶،ج۶،ص۲۴۷۔۲۴۸) حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم تاج دارِ کائنات ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے ،آپ نے ارشاد فرمایا:'' گذشتہ رات میں نے ایک عجیب بات دیکھی، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے گھٹنوں کے بل جُھکا ہوا تھا ،اس کے اور پروردگارِ کائنات کے درمیان حجاب تھا پس حُسنِ اخلاق آیا اوراس نے اسے پروردگارِ کائنات کے قرب میں پہنچا دیا۔''(مکارم الاخلاق للخرائطی، باب ثواب حسن الخلیقۃوجسیم خطرھا، الحدیث۴۹،ج۱،ص۵۲)مذکورہ حدیثوں سے حسن اخلاق کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔تاج دارِ کائنات ﷺ مزید فرماتے ہیں: ''حَسِّنُوْا اَخْلاَ قَکُمْ یعنی: اپنے اخلاق کو سنوارو۔''(جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ما جاء فی معاشرۃ الناس، الحدیث۱۹۸۷، ص۱۸۵۱، مفھومًا)تاج دارِ کائنات ﷺ نے یہ فرما کر اس بات سے آگاہ فرمایا، کہ اخلاق، تبدیلی کو قبول کرتے اور تصرف سے متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا غصہ، شہوت اورحرص سے بچنے کی کوشش کرنی چاہے اوریہ تمام صفات حکمِ شرع کے مطابق ہونی چاہئيں ، جب ہوگا تو مقصد حاصل ہوجائے گااوریہ چیزناپسندیدہ اشیا پر صبر کرنے اورمجاہدہ سے حاصل ہوتی ہے تاکہ اس کے بعد یہ عادت بن جائے۔تاج دارِ کائنات ﷺ کا فرمانِ والاشان ہے: ''اَلْخَیْرُ عَادَۃٌ یعنی:بہترین چیز عادت ہے۔'' (سنن ابن ماجۃ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، الحدیث۲۲۱،ص۲۴۹۰) مثال کے طور پر جو شخص اصل فطرت سے سخی نہ ہو تو وہ تکلف سے اس عادت کو اپناتا ہے اوراسی طرح جس کی تخلیق تواضع پر نہ ہو تو اسے اس چیز کو عادت بنانے میں مشقت ہوتی ہے اوراسی طرح وہ تمام صفات جن کا علاج ان کی ضد کے ساتھ کیا جاتا ہے حتّٰی کہ مقصد حاصل ہوجائے ۔عبادات پر ہمیشگی اورخواہشات کی مخالفت باطنی صورت کو حسین بنادیتے ہیں اوراللہ سے اُنس حاصل ہوجاتاہے۔تاج دارِ کائنات ﷺ کا فرمانِ عالی شا ن ہے: اُعْبُدِ اللہَ فِی الرِّضَا فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَفِی الصَّبْرِ عَلٰی مَا تَکْرَہُ خَیْرٌ کَثِیْرٌ۔یعنی:اللہ کی عبادت رضا مندی سے کرو اگر ایسا نہ ہوسکے تو ناگوار بات پر صبر کرنے میں بہت زیادہ بھلائی ہے ۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصبر علی المصائب، فصل فی ذکرما فی الأوجاع ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۰۰۰۰،ج۷،ص۲۰۳،بتغیرٍ)لہذا ابتدا میں صبر کرنا چاہیے یہاں تک کہ راضی ہوجائے، کیوں کہ اصل فطرت بھی باطنی صورت کے حُسن کا تقاضا کرتی ہے اور اسی طرف مائل ہوتی ہے اور تاج دارِ کائنات ﷺ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اسی جانب اشارہ فرمایا: ''اَلْحَسَنَۃُ بِعَشَرِ اَمْثَالِھَا یعنی:ایک حسنہ دس نیکیوں کے برابر ہے۔ '' (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب فضل الصوم، الحدیث۱۸۹۴،ص۱۴۸) اوریہی اصلِ فطرت کی موافقت ہے۔اخلاق سنوارنے کا بہترین طریقہ:یہ تو ہم جان چکے ہیں، کہ جسم کی بیماری کا علاج اس کی ضد کے ساتھ ہوتاہے۔ اسی طرح مرضِ دل کا معاملہ ہے۔ اور یہ چیز لوگوں کے مختلف ہونے کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں اورشیخ اپنی قوم میں اس طرح ہوتا ہے جیسے نبی اپنی اُمّت میں، وہ مرید کا حال دیکھتاہے اوراس پر غالب آنے والی صفات کو جانتاہے اور ان چیزوں کو بھی جانتاہے جن سے مُرید کا علاج ممکن ہوتاہے، لہٰذا وہ اسے ابتدائی مرحلے میں عبادات، کپڑوں کو پاک وصاف رکھنے، نمازوں پر پابندی اختیار کرنے اورتنہائی میں پروردگارِ کائنات کا ذکر کرنے میں مشغول رکھتاہے۔ پس اس طرح اس کے پوشیدہ عیوب ظاہر ہوجاتے ہیں جس طرح پتھر میں چھپی آگ (ایک پتھر کو دوسرے پر مارنے سے) ظاہر ہوجاتی ہے اوراگر اس کے پاس زائد مال ہوتو شیخ اسے لے کر محتاجوں میں بانٹ دیتاہے تاکہ اس کا دِل فارغ ہوجائے اوراس کے دِل کا فارغ ہونا ہی اصل چیز ہے۔ پھر اس کے غیر کے دل کا فارغ ہونا اس کے مال کے لیے وبال ہے اوراس کے غموں کو بڑھاتا ہے اوران غموں کی برکت سے اس پر اس کا مقصود آسان ہو جاتا ہے اور تہذیبِ اخلاق کا طریقہ یہ بھی ہے، کہ اس کی بعض صفات کو دوسری صفات پر مسلَّط کردیا جائے۔ چناں چہ وہ عارضی ریا کے ذریعے سخاوت میں رغبت اختیار کرے (جب کہ اسے دل میں نہ جمنے دے )، تاکہ وہ بخل، دنیا کی محبت اور اس کے جمع کرنے کو ترک کر دے اور غصہ وشہوت کا استعمال ترک کردے، تاکہ وہ اسے پاک دامنی اوردرستگی پر ابھارے ،پھر اس کے بعد ریاکاری کی طرف متوجہ ہو اور ریاضت کی مدت میں حاصل ہونے والی دین کی قوت اور اللہ کی طرف اپنی توجہ کے ذریعے اس کاقلع قمع کر دے اور نفس کی ضد کے ساتھ عبادات کی پابندی کر کے اس کا علاج کرے اوربعض شیوخ کے بارے میں مروی ہے، کہ اگر ان کا نفس رات کے کسی حصہ میں قیام سے سستی کرتا، تو ایک مدّت تک سر کے بل کھڑا ہونا اس پر لازم کر دیتے ،تاکہ وہ قدموں پر کھڑا ہونا خوشی سے اختیارکرے اور اسے غنیمت جانے۔بد اخلاقی سے بچنے کا طریقہ:تاج دارِ کائنات ﷺ کا فرمانِ والاشان ہے :اِذَا اَرَادَاللہُ بِعَبْدٍخَیْرًا بَصَّرَہ، بِعُیُوْبِ نَفْسِہٖ۔یعنی:جب پروردگارِ کائنات کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے تو اسے اس کے عیوب دکھا دیتاہے۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الأمل، الحدیث۱۰۵۳۵،ج۷،ص۳۴۷) اپنے عیوب پہچاننے کے طریقوں میں سے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے، کہ انسان اپنے مُرشِد کے سامنے بیٹھے اور اس کے حکم کے مطابق عمل کرے، کبھی اسی وقت اس پر اپنے عیوب ظاہر ہوجاتے ہیں اورکبھی اس کا مُرشِد اسے اس کے عیوب سے آگاہ کر دیتا ہے۔ یہ طریقہ سب سے اعلیٰ وبہترین ہے، مگر آج کل یہ بہت مشکل ہے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کوئی نیک دوست تلاش کرے ،جو اس معاملہ کے اسرار سے واقف ہو،اس کی صحبت اختیارکرے اوراسے اپنے نفس کا نگران بنائے، تاکہ وہ اس کے اَحوال کو ملاحظہ کرکے اس کے عیوب سے آگاہ کرے ۔ اَکابِر اَئمہ دین اسی طرح کیا کرتے تھے۔ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے تھے :''پروردگارِ کائنات اس شخص پر رحم فرمائے جو مجھے میرے عیوب بتائے۔''جب حضرت سَیِّدُنا سَلمان رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے اپنے عیبوں کے بارے میں پوچھا:''کیا آپ تک میری کوئی ایسی بات پہنچی ہے جو آپ کو ناپسند ہو؟'' انھوں نے بتانے سے معذرت کی، لیکن آپ نے اصرار کیا تو حضرت سیِّدُنا سلمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ''میں نے سنا ہے کہ آپ اپنے دسترخوان پر دوسالن جمع کرتے ہیں اور آپ کے پاس دو جوڑے ہیں، ایک دن کا اورایک رات کا۔ ''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر پوچھا:'' اس کے علاوہ بھی کوئی بات پہنچی ہے؟ ''تو انھوں نے عرض کی:'' نہیں۔'' امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اگر صرف یہی دو ہیں تو میں انھیں کافی ہو جاؤں گا۔'' حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ عنہ جو کہ منافقین کی پہچان کے معاملے میں تاج دارِ کائنات ﷺ کے راز دار تھے، امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے: کیا آپ کو مجھ میں منافقت کے آثار نظر آتے ہیں؟ تو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس قدر بلند مرتبہ اورعظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود اس طرح اپنے نفس کو اس قدر تہمت لگاتے تھے۔ لہذا اگر آپ کوئی دوست نہ ملے تو اپنے حاسدین کی باتوں پر غور کریں، آپ ایسے حاسد کو پائیں جو آپ کے عیبوں کا متلاشی ہوتا ہے اوراس میں اضافہ کرتاہے، تو آپ اس سے فائدہ اٹھائیں اوراس کی طرف سے بتائے جانے والے تمام عیوب کے ساتھ اپنے نفس کو متَّہم جانیں اوراگر کوئی شخص آپ کو آپ کے عیب بتائے تو اس پر غضب و غصہ نہ کریں کیوں کہ عیوب سانپ اوربچھو ہیں جو دنیا وآخرت میں آپ کو ڈستے ہیں۔کیوں کہ جو شخص آپ کو بتائے کہ آپ کے کپڑوں کے نیچے سانپ ہے توآپ اس شخص کے احسان مند ہوتے ہیں ،لیکن اگر آپ اس پر غصہ کریں گے تو یہ آخرت میں آپ کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے ۔اوراگر آپ اس کی نصیحت سے فائدہ اٹھائیں تو یہ آپ کی قوّتِ ایمانی کی دلیل ہے اورجان لیں کہ ناراض ہونے والی آنکھ برائیوں کو ظاہر کرتی ہے ،اور ایمان کاقوِّی ہونا آپ کو اس وقت فائدہ دے گاجب آپ حاسدوں کی ملامت کو غنیمت جانیں اوران عیوب سے بچیں۔حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃو السلام سے پوچھا گیا:'' آپ کو ادب کس نے سکھایا ؟'' آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: '' مجھے کسی نے ادب نہیں سکھایا،میں نے جاہل کی جہالت (کہ یہ بھی ایک عیب ہے)کو دیکھاتو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔''جان لیں ! جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے جب آپ اس پر غوروفکر کریں گے تو آپ کی بصیرت کی آنکھ کھل جائے گی، اور آپ اس سے فائدہ حاصل کریں گے، اگر آپ کو یہ چیز نہ حاصل ہو تو کم از کم اس پر ایمان لانا اوراس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ پہلی چیز ایمان ہے اورپھر اس منزل تک پہنچنا ہے۔ پروردگارِ کائنات کا فرمان عالیشان ہے:یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕیعنی: اللہ تمہارے ایمان والوں کے اوران کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(پ28،المجادلۃ:11)تقوی ان اعمال کے حصول میں اصل مال کی حیثیت رکھتاہے۔ پروردگارِ کائنات نے ارشاد فرمایا: وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿2﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕیعنی: اورجو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اوراسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔(پ28، الطلاق:2۔3)منقول ہے کہ عزیز ِمصرکی بیوی نے حضرت سیِّدُنا یوسف علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام سے کہا:''اے یوسف (علیہ السلام) ! بے شک حرص اورخواہش نے بادشاہوں کو غلام بنایا اورصبروتقوی نے غلاموں کو بادشاہ بنادیا۔''توحضرت سَیِّدُنایوسف علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے فرمایا : پروردگارِ کائنات کا فرمانِ حقیقت نشان ہے :اِنَّہٗ مَنۡ یَّـتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللہَ لَایُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿90﴾یعنی: بے شک جو پرہیزگاری اورصبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر ) ضائع نہیں کرتا۔(پ13،یوسف:90)حضرت سیِّدُنا جنیدبن محمد خزارعلیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں : '' ایک مرتبہ میں رات کو جاگا اوراپنے وظیفہ میں مشغول ہوگیا، لیکن میں نے اس میں وہ لذّت نہ پائی جو پہلے پایا کرتا تھا چناں چہ میں نے سونے کا ارادہ کیا لیکن سونہ سکا، لہٰذا بیٹھ گیا لیکن بیٹھ بھی نہ سکا تو باہر نکل گیا،کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کمبل میں لپٹا ہوا راستے میں پڑا ہے، جب وہ میرے آنے پر مطلع ہوا تو کہنے لگا: ''اے ابوقاسم! ذرا میرے پاس تشریف لائیے۔'' میں نے کہا: ''اے محترم! پہلے سے آپ نے کوئی اطلاع نہیں دی۔'' اس شخص نے کہا:'' جی ہاں! میں نے پروردگارِ کائنات کی بارگاہ میں التجا کی کہ وہ تیرے دل کو میری طرف متوجہ کر دے۔'' میں نے کہا:''وہ تیری طرف متوجہ ہو گیا ہے ،(اب بتاؤ )تمہاری کیاحاجت ہے؟'' اس نے کہا:'' نفس کی بیماری اس(نفس)کا علاج کب بنتی ہے ؟''میں نے کہا: ''جب تو نفس کی خواہش میں اس کی مخالفت کرے۔'' پس وہ اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا:'' اے نفس! اب سن لیا! میں نے تجھے سات باراس بات کا جواب دیا لیکن تو نے انکار کیا اورکہا: میں حضرت سَیِّدُناجنیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہی سنوں گا (تواب تو نے سن لیا)۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص چلا گیا اورمیں اسے نہ پہچان سکا۔اچھے اَخلاق کی نشانیاں:پروردگارِ کائنات کا ارشادِ پاک ہے :(1) قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوۡنَ ۙ﴿1﴾الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوۡنَ ۙ﴿2﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوۡنَ ﴿ۙ3﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿4﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ ۙ﴿5﴾اِلَّا عَلٰۤی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ ۚ﴿6﴾فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعٰدُوۡنَ ۚ﴿7﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَ عَہۡدِہِمْ رَاعُوۡنَ ۙ﴿8﴾وَالَّذِیۡنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوۡنَ ۘ﴿9﴾اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْوَارِثُوۡنَ ﴿ۙ10﴾یعنی:بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑ گڑاتے ہیں اوروہ جو کسی بے ہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اوروہ کہ زکوۃ دینے کا کام کرتے ہیں اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں یاشرعی باندیوں پر جوان کے ہاتھ کی مِلک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جو ان دو کے سوا کچھ اورچاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں اوروہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں اوروہ جو اپنی نمازوں کی نگہ بانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں۔(پ18،المؤمنون:1تا10)(2) اَلتَّآئِبُوۡنَ الْعٰبِدُوۡنَیعنی:تو بہ والے عبادت والے۔(پ11،التوبہ:112)(3) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوۡبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیۡمَانًایعنی:ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈرجائیں اورجب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے ۔ (پ9،الانفال:2)(4) وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًایعنی:اوررحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔ (پ19 ،الفرقان:63)اخلاقی تربیت کا طریقہ:بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں اگر ابتدائی عمر میں مشفِق کی معمولی سی توجہ حاصل ہوجائے، تو وہ ان کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ جس طرح حضرت سیِّدُنا سہل تستری علیہ رحمۃ اللہ الولی سے منقول ہے ،آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' میری عمر تین سال تھی اور میں رات کو اٹھ کر اپنے ماموں حضرت سَیِّدُنامحمد بن محمدبن سوّار علیہ رحمۃ اللہ الوھاب کو خلوت میں نمازپڑھتے دیکھتا تھا۔ ایک دن میرے ماموں نے مجھ سے پوچھا: ''کیا تو اس پروردگارِ کائنات کویاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا کیا ؟'' میں نے پوچھا:'' میں اسے کس طرح یاد کروں ؟'' انھوں نے فرمایا:''جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو تین بار زبان کو حرکت دئیے بغیر محض دل میں یہ کلمات کہو: '' اَللہُ مَعِیَ،اَللہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ،اَللہُ شَاھِدِیْ یعنی پروردگارِ کائنات میرے ساتھ ہے ، پروردگارِ کائنات مجھے دیکھ رہا ہے اورپروردگارِ کائنات میرا گواہ ہے ۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:میں نے چند راتیں یہ کلمات پڑھے پھر انہیں بتایا تو انھوں نے فرمایا:''ہر رات سات مرتبہ پڑھو۔'' میں نے انہیں پڑھا پھر انہیں بتایا تو انھوں نے فرمایا:'' ہر رات گیارہ مرتبہ یہ کلمات پڑھو۔'' میں نے اسی طرح پڑھا، تو میرے دل میں اس کی لذّت پائی گئی، جب ایک سال گزرگیا تو میرے ماموں نے مجھ سے فرمایا:'' میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے یاد رکھو اورقبر میں جانے تک ہمیشہ پڑھتے رہنا، تمہیں دنیا وآخرت میں نفع دے گا۔'' میں نے کئی سال تک ایسا کیا تو اپنے اندر اس کا مزہ پایا پھر ایک دن میرے ماموں نے فرمایا:'' اے سہل ! پروردگارِ کائنات جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اوراس کا گواہ ہو ،وہ اس کی نافرمانی کیسے کر سکتاہے ؟ گناہ سے بچو۔''میں تنہائی میں یہ ذکر کرتا رہا پھر انھوں نے مجھے مکتب میں بھیجا،تو میں نے عرض کی:'' مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے ذکر میں خلل نہ آجائے۔چنانچہ انھوں نے استاد صاحب سے یہ شرط مقرر کی ،کہ میں ان کے پاس جاکر صرف ایک گھنٹہ پڑھوں گا، پھر لوٹ آؤں گا، میں مکتب جاتارہا اورقرآن مجید حفظ کرلیا، اسوقت میری عمر چھ ،سات سال تھی، میں روزانہ روزہ رکھتا ، بارہ سال تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا، تیرہ سال کی عمر میں مجھے ایک مسئلہ پیش آیا ، میں نے گھروالوں سے کہا:''مجھے بصرہ بھیج دو تاکہ میں وہاں کے علماء سے اس کے بارے میں دریافت کروں لیکن ان میں کسی نے مجھے شافی جواب نہ دیا، پھر میں عبادان کی طرف نکلا۔میں نے وہاں پر حضرت سیِّدُنا ابو حبیب حمزہ بن عبداللہ عبادانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نامی بزرگ سے مسئلہ پوچھا تو انھوں نے مجھے قابلِ اطمینان جواب دیا،میں ان کے پاس ٹھہر گیا، ان کے کلام سے نفع حاصل کرتااورآداب سیکھتا رہا، پھر میں تستر کی طرف آگیا، میں نے اپنی روزی کا انتظام یوں کیا کہ میرے لیے ایک درہم کے ایک فِرق (چارکلو) جَو خریدے جاتے ،انہیں پیس کر روٹی پکائی جاتی،میں ہر رات سحری کے وقت ایک اوقیہ روٹی کھاتا جو نمک اورسالن کے بغیر ہوتی، چنانچہ ایک درہم مجھے سال بھر کے لیے کافی ہوجاتا پھر میں نے ارادہ کیا، کہ تین دن مسلسل روزہ رکھوں گا، پھر افطار کروں گا پھر پانچ دن ، پھر سات دن اورپھر پچیس دن کا مسلسل روزہ رکھا اوربیس سال تک میرا یہی معمول رہا۔ پھر میں زمین میں سیروسیاحت کے لیے نکلا، پھر تستر واپس لوٹ آیا اورمیں ساری رات قیام کرتا تھا۔ پروردگارِ کائنات جو قوّی اورکریم ہے وہی اس کی توفیق عطافرمانے والا ہے۔ ''مریدین کے لیے نصیحت:جان لیں ! جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتاہے، اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دنیا کی کھیتی کو چھوڑ دیتاہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے دل سے آخرت کا یقینی مشاہدہ کرلیتاہے اس کی علامت یہ ہے کہ وہ دنیا کو حقیر سمجھتا ہے اورجو شخص نفیس جوہر دیکھ لے اوراس کے ہاتھ میں منکا ہوتو اب اسے منکے کی رغبت نہیں رہتی جو ایسا نہیں کرتا ( یعنی آخرت کی کھیتی کا ارادہ نہیں رکھتا)تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پروردگارِ کائنات اورآخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔(پس معلوم ہوا )پروردگارِ کائنات تک رسائی کا نہ ہونا راہ سلوک پر گامزن نہ ہونے کی وجہ سے ہے ، اس راہ پر گامزن نہ ہونا ارادہ نہ ہونے کی وجہ سے ہے اورارادہ میں رکاوٹ ایمان کا نہ ہوناہے، اورظاہری طور پر عدمِ ایمان کا سبب سیدھا راستہ دکھانے والوں اور پروردگارِ کائنات کے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والے علماء کا نہ پایا جانا ہے ۔چنانچہ جو شخص اپنے نفس سے یا اس کے غیر سے آگاہ ہوجائے تو اس کے لیے چند شرائط ہیں (مرید بننے سے پہلے)انکا پایا جانا ضروری ہے۔ پہلی شرط:پردے اوررکاوٹ کو اٹھادینا ہے اوریہ چار ہیں: (۱) مال (۲) جا ہ ومرتبہ(۳)تقلید اور (۴)گناہ۔جہاں تک مال کا تعلق ہے تو وہ ضرورت سے زائد تقسیم کردے، اورجاہ سے خلاصی اس طرح ممکن ہے کہ وہ وطن سے دور چلا جائے، یا تواضع وپوشیدگی کو اختیار کرے اور اس چیز کی طرف متوجہ ہوجو جاہ ومرتبہ کو ختم کردیتی ہے، اورتقلید کا حجاب اس طرحدور ہوتاہے کہ وہ مذاہب کے تعصُّب کو چھوڑ دے اور لَااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کے معنی کی ایمان کے ساتھ تصدیق کرے ،اور ان اعمال پر عمل پیرا ہو جو اس کلمہ کی تصدیق کرتے اوراسے ثابت کرتے ہیں ،اوردنیا اوراس کی خواہشات اوران تمام چیزوں کو چھوڑ دے جن کی طرف نفس مائل ہوتاہے، تو اس وقت وہ اپنی پوری ہمت کے ساتھ حقیقت میں پروردگارِ کائنات کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے لیے درست اعتقادظاہر ہوجائے گا، جیسا کہ پروردگارِ کائنات کا فرمانِ عالیشان ہے:وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕیعنی:اورجنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے۔ (پ21،العنکبوت:69)جہاں تک گناہوں کا تعلق ہے تووہ انہیں چھوڑدے ،اوران کی جگہ عبادات بجالائے، گذشتہ گناہوں پر شرمندہ ہو اور توبہ کرے اور لوگوں کے حقوق لوٹا دے۔ جب وہ ایسا کرے اوران چاروں امور سے فارغ ہوجائے تووہ اس شخص کی طرح ہوگیا جو وضو کرتا ہے، ناپاکی کو دور کرتاہے، شرمگاہ کو ڈھانپتا ہے اورنماز کے لیے تیار ہوجاتاہے۔ اس وقت اسے راہ ِآخرت سے واقف ایک شیخ کی ضرورت ہوتی ہے، کہ وہ اس کی رہنمائی کرے اوراس وقت وہ شیخ کے سامنے اس طرح ہوتاہے ،جس طرح غسل دینے والے کے ہاتھوں میں میت ہوتی ہے کہ وہ خودبخود حرکت نہیں کرتی بلکہ غسل دینے والا جس طرح چاہتا ہے، اسے حرکت دیتاہے۔ اس وقت اسے چاہے کہ وہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ وحضرت سیِّدُنا خضر علیٰ نبیناوعلیہما الصلوٰۃو السلام کے واقعہ کو یاد کرے اوراپنے شیخ پر کسی حالت کے بارے میں اعتراض نہ کرے۔ اس وقت اسے چار چیزوں کا حکم دیا جائے گا: (۱)خلوت (۲)خاموشی (۳) بھوک (۴) بیداری ۔جہاں تک بھوک کا تعلق ہے تو اس سے مراد دل کا خون کم ہوناہے ،اس میں دل کی سفیدی ونور ہے،بھوک سے دل کی چربی پگھل جاتی ہے ،یہ دل کی نرمی کا سبب ہے ،یہ نرمی مکاشفہ کی چابی ہے، جس طرح سختی جو نرمی کی ضد ہے، حجاب کا باعث ہوتی ہے اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناعائشہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا کو ارشادفرمایا:''بھوک سے شیطان کی گزرگاہوں کو تنگ کرو۔'' اس فرمان میں اسی طرف اشارہ ہے اورحضرت سیِّدُنا عیسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام نے اپنے رفقاء سے ارشاد فرمایا: ''اپنے پیٹوں کو بھوکا رکھو تاکہ تم دل (کی آنکھوں) سے اپنے رب کا دیدار کرو۔''حضرت سیِّدُنا سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:''چارخصلتوں کے بغیر ابدال کا مرتبہ حاصل نہیں ہوتا:(۱)پیٹ کو بھوکا رکھنا (۲)بیداری(۳)خاموشی (۴)لوگوں سے دور رہنا۔''جہاں تک بیداری کا تعلق ہے تویہ دل کو روشن ومنوّر کرتی ہے ،اوربھوک بیداررہنے میں مدددیتی ہے اوریہ دونوں چیزیں دل کو منوّر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہيں ۔ نیند دل کو سخت اور مردہ کردیتی ہے مگر یہ کہ بقدرِ ضرورت ہو(تودل کے لیے نقصان دِہ نہیں) ابدال کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں، کہ ان کی نیند غلبہ کے وقت ، کھانا فاقے کے وقت اورکلام ضرورت کے وقت ہوتاہے۔حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوّاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشادفرماتے ہیں: ''ستر صدّیقین اس بات پر متفق ہیں،کہ نیند کی کثرت کا سبب زیادہ پانی پینا ہے۔''خاموشی گوشہ نشینی اورخلوت کی صورت میں آسان ہوتی ہے اورکلام کازیادہ حریص وہ شخص ہوتا ہے جو صاحبِ علم ہو، کیونکہ اس سے رکنا بہت مشکل ہوتاہے لیکن اس کا فائدہ ونفع بھی بہت زیادہ ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے باطن غیب کی طرف متوجہ ہوتاہے اوراس دنیاوی زندگی سے اعراض کرتاہے ۔جبکہ خلوت کا فائدہ یہ ہے کہ انسان غفلت سے بچ جاتاہے، تاکہ مقصد کے لیے فارغ ہوسکے اور اس مقصد کے لیے حواس کا سکون ضروری ہے، کہ اس سے انسان کا دل حرکت کے قابل ہوجاتاہے اوراس کے لیے خلوت ضروری ہے، پھر بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے کمرے میں خلوت اختیار کرے، جس میں اندھیرا ہو، تاکہ اس کی نظر کسی ایسی چیز پر نہ پڑے جو اسے غافل کردے، لیکن اگر تاریک کمرہ میسر نہ ہوتو وہ اپنے سر کو کسی چیز سے لپیٹ لے یا آنکھیں بند کرلے ،اور حواس کے سکون کی صورت وہ ندائے حق سنے گا،نیز اللہ ربّ العزّت کے جمال کا مشاہدہ کریگا ،کیا تم نہیں دیکھتے !کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو جب ندا دی گئی تو ارشاد فرمایاگیا :(1) یٰۤاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۙ﴿1﴾یعنی: اے جھرمٹ مارنے والے۔(پ29،المزمل:1)(2) یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۙ﴿1﴾یعنی: اے بالاپوش اوڑھنے والے۔(پ29،المدثر:1)جب بندہ بھوک ، خلوت ، بیداری اورخاموشی اختیار کرے تو اسے چاہے کہ وہ پروردگارِ کائنات کا ذکر کرے ،اس کا طریقہ یہ ہے کہ گھر کے ایک کونے میں باوضو، قبلہ رو ہو کربیٹھ جائے اوراپنی زبان سے اللہ، اللہ کا ورد کرے ،اورمسلسل ذکر کرتا رہے ، اپنے دل اور تمام حواس کو زبان سے ادا ہونے والے کلمات کو سننے کے لیے حاضر رکھے اور مسلسل اس ذکر میں مصروف رہے، یہاں تک کہ زبان کی حرکت ختم ہوجائے گویایہ کلماتِ طیبات خود بخود زبان پر جاری ہيں، پھر وہ زبان سے دل کی طرف لوٹے ، جب دِل ذکر سے رک جائے تو زبان سے ذِکر جاری رہے۔ جب دِل ذکر میں راسخ ہوجائے تو زبان سے خاموش ہوجائے اوراسی طرح کرتا رہے ،یہاں تک کہ دِل سے حروف مٹ جائیں اورحروف کے بغیر صاف و شفاف ذکر باقی رہے، پھر ذکر سےآگے بڑھ کر ہمیشگی کی حالت اختیار کرے اورجب اس پر کچھ چیزوں کا ظہور ہو جائے تو سابقہ حالت کی طرف لوٹ آئے، اوراپنے شیخ سے اس کاذکر کرے، کیونکہ وہ ان اسرار ورموز کو جانتا ہے جومرید پر صفائی و کدورت کے معاملے میں طاری ہوتے ہیں،اورمرید پرجو خیالات، وساوس اورصحیح احوال پائے جاتے ہیں ان کا خود بخود جاننا ممکن نہیں۔ لہٰذا وہ اپنے شیخ کو بتا دے کیونکہ وہ اسے زیادہ جانتاہے اورجب تک وہ سمجھتا ہے کہ اس کا نفس ابھی تک زِیر نہیں ہواتو تمام احوال میں اس کے لیے ذکر کرناضروری ہے۔پروردگارِ کائنات ارشاد فرماتاہے:قُلِ اللہُ ۙ ثُمَّ ذَرْہُمْیعنی: اللہ کہو ، پھر انہیں چھوڑ دو۔ (پ7،الانعام:91)چنانچہ اس پر جب کوئی وسوسہ یا بُر اخیال غالب ہو،اور اس کے غائب ہونے تک وہ اسے جان نہیں پاتا تو اس میں کوئی حرج نہیں، لہٰذا جب اس کے دل سے وسوسہ نکل جائے اوروہ حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو پروردگارِ کائنات کا ذکر کرنا شروع کردے۔پروردگارِ کائنات نے ارشاد فرمایا:(1) اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿201﴾یعنی: بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں ۔ اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔(پ9،الاعراف:201)(2) وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿200﴾یعنی: اوراے سننے والے! اگر شیطان تجھے کوئی کو نچا دے (کسی برے کام پر اکسائے )تو اللہ کی پناہ مانگ بے شک وہی سنتا جانتاہے ۔(پ9،الاعراف: 200)اور اپنی ساری زندگی پابندی سے ذکرکرتا رہے،ہوسکتا ہے کہ عنقریب وہ ملوکِ دین( یعنی دین کے بادشاہوں )میں سے ہو جائے جن پر حقائق ظاہر ہوجاتے ہیں ،اوروہ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی دل پر ان کاگمان گزرا۔ اگر اس پر کوئی شئے ظاہر نہ ہو تو وہ ذکر پر ہمیشگی اختیار کرے ،کہ حضرت مَلَکُ الموت علیہ السلام کی آمد کے وقت اس پر وہ اشیا ظاہر ہو جائیں اوراگر پروردگارِ کائنات نے چاہا تو وہ مقصود تک پہنچ جائے گا۔اس بات کو سمجھ لو تمہیں فائدہ ہوگا۔اخیر میں بارگاہ قاضی الحاجات میں دعا گو ہوں کہ موالے پاک اپنے محبوب پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل حضرت مخدوم پاک کے مرقد منور پہ رحمت و انوار کی بارشیں برسائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی یاد منانے اور ان کے نام نذر و نیاز کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بھی توفیق خیر مرحمت فرمائے۔آمین۔ یا رب العالمین۔ بجاہ النبی الامین۔صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ ومن تبعھم اجمعین۔
- Get link
- X
- Other Apps
سلطان المخدومین حضرت سیدنا کمال الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمہ اور حفاظتِ زباناز قلم: ناچیز ناصرؔ منیری کان اللہ لہڈائریکٹر :ریسرچ سینٹر، خانقاہ منیر شریفرابطہ نمبر: 9905763238سلطان المخدومین حضرت سیدنا کمال الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمہ والرضوان اپنے وقت کے عظیم المرتبت، رفیع الشان اور عدیم النظیر صوفی بزرگ گذرے ہیں۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے کبار صوفیہ میں ہوتا ہے۔ آپ مذہب مہذب اسلام کے مخلص داعی اور تصوف و روحانیت کے سچے مبلغ تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی خلقِ خدا کی خدمت، متلاشیانِ راہِ حق کی رہ نمائی و ہدایت اور تعلیماتِ تصوف کی ترویج و اشاعت میں گذاری۔ ذیل میں صوفی ازم کی تعلیمات میں سے حفاظتِ زبان پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔زبان کاخطرہ بہت بڑاہے اوراس کے خطرے سے نجات صرف خاموشی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاج دارِ کائنات ﷺنے خاموشی کی تعریف کی اورخاموش رہنے کی ترغیب دی ۔ جیسا کہ تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمانِ عالی شان ہے: ''مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی:جوخاموش رہااس نے نجات پائی۔'' (جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب حدیث من کان یؤمن اﷲ فلیکرم ضیفہ، الحدیث۲۵۰۱،ص۱۹۰۳)تاج دارِ کائنات ﷺ مزید فرماتے ہیں:''اَلصَّمَتُ حِکَمٌ وَقَلِیْلٌ فَاعِلُہٗ یعنی: خاموشی حکمت ہے اوراِسے اختیارکرنے والے کم ہیں۔'' (شعب الایمان للبیھقی، باب فی حفظ اللسان، فصل فی فضل السکوت عما لا یعنیہ، الحدیث۵۰۲۶،ج۴،ص۲۶۴)ایک اور مقام پر تاج دارِ کائنات ﷺ فرماتے ہیں:مَنْ یَّتَکَفَّلُ لِیْ مَابَیْنَ لِحْیَیْہِ وَرِجْلَیْہِ اَتَکَفَّلُ لَہُ بِالْجَنَّۃِیعنی:جوشخص مجھے دوجبڑوں کے درمیان والی چیز( یعنی زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز( یعنی شرم گاہ)کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب حفظ اللِّسان، الحدیث۶۴۷۴،ص۵۴۳،مفہومًا)ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی: '' یارسول اللہ ﷺ!مجھے وصیت فرمائیں۔'' آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:'پروردگارِ کائنات کی اس طرح عبادت کرگویا تواسے دیکھ رہا ہے، اپنے آپ کومرنے والوں میں شمارکر،اوراگرتو چاہے تومیں تجھے بتاؤں ،کہ تیرے لیے کون سی چیز بہتر ہے، پھرآپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب حفظ اللسان وفضل الصَمت، الحدیث۲۲، ج۷، ص۲ ۴۔۴۳) حضرت سیِّدُنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: ''یارسول اللہ ﷺ!کیاہماری گفتگوپربھی مؤاخذہ ہوگا؟ '' آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''اے ابنِ جبل!تیری ماں تجھ پر روئے، لوگوں کوان کے نتھنوں کے بل جہنم میں گرانے والی زبان کی کاٹی ہوئی کھیتی (یعنی گفتگو)کے سوا اور کیا ہے۔ (جامع الترمذی، ابواب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، الحدیث۲۶۱۶،ص۱۹۱۵) امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنے منہ میں چھوٹے چھوٹے پتھررکھتے تھے، جن کے ذریعے گفتگو سے پرہیزکرتے ،نیزآپ رضی اللہ عنہ اپنی زبان کی طرف اشارہ کرکے فرماتے:''اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں پہنچایا۔'' حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ''اُس پروردگارِ کائنات کی قسم جس کے سواکوئی معبودنہیں!کوئی چیز زبان سے زیادہ قیدکی محتاج نہیں۔''(1) بے مقصد کلام کرنا: جان لو!جب تم بے مقصدگفتگوکروگے، یعنی ایسی گفتگوجس کی تمھیں حاجت نہیں،تواپناوقت ضائع کروگے اوراس کے ذریعے اپنے آپ کوحساب وکتاب کے لیے پیش کروگے، تواس طرح تم اچھی چیزدے کراس کے بدلے بری چیزلینے والے بن جاؤ گے ،کیوں کہ اگرتم اس کی بجاے پروردگارِ کائنات کاذکرکرتے یاخاموش رہتے یاغورو فکر میں مشغو ل رہتے تواس کے نتیجے میں بلند درجات پالیتے۔تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمان ہے:مِنْ حُسْنِ اِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْکُہ، مَالَایَعْنِیْہِ۔یعنی:انسان کے اسلام کی اچھائی، فضول باتوں کو ترک کر دینا ہے۔(جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب حدیث: من حسن اِسلام المرء ترکہ مالایعنیہ، الحدیث۲۳۱۷،ص۱۸۸۵) حضرت سَیِّدُناانس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن ہماراایک غلام شہیدہوگیا،ہم نے اسے بھوک کی وجہ سے پیٹ پرپتھرباندھے ہوئے پایا،اس کی ماں نے اس کے چہرے سے گردوغبارصاف کرتے ہوئے کہا: اے بیٹے !تمھیں جنت مبارک ہو۔تو تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:''تمھیں کیسے معلوم ہوا ؟(کہ یہ جنتی ہے)ہوسکتاہے یہ فضول کلام کرتا ہو اور ایسی گفتگوسے منع کرتاہوجو اسے نقصان نہ پہنچاتی تھی۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب النھی عن الکلام فیما لایعنیک، الحدیث۱۰۹، ج ۷ ، ص ۸۵) بے مقصد کلام یہ ہے کہ مجلس میں ایسے سچے واقعات بیان کیا جائے جو دورانِ سفر پہاڑوں اور جنگلوں میں پیش آئیں۔(2) فضول گوئی کرنا: دوسری آفت یہ ہے کہ توایسی بات کا تکرار کرے جس کے تکرار کرنے کاکوئی فائدہ نہ ہواور اس میں زیادہ الفاظ استعمال کرے جن کی ضرورت نہ ہو۔حضرت سَیِّدُناعطابن ابی رباح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: تم سے پہلے لوگ فضول کلام کوناپسندکرتے تھے۔ مثال کے طور پر یہ بات بھی فضول ہے کہ تم کہو،''اے پروردگارِ کائنات !اس کُتّے کودورفرما۔'' حضرت سیِّدُنا مطرَّف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:'' پروردگارِ کائنات کی عظمت کالحاظ رکھا کرواور کُتّے یاگدھے کانام لیتے وقت بھی پروردگارِ کائنات کاذکرنہ کرومثلاً یہ نہ کہو:اے پروردگارِ کائنات !انہیں دورکردے وغیرہ وغیرہ۔'' فضول گوئی کی کوئی حدنہیں۔ تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمانِ عالی شان ہے:طُوْبٰی لِمَنْ اَمْسَکَ الْفَضْلَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ اَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَّالِہٖیعنی:اس شخص کو مبارک ہو جواپنی زبان کو فضول گوئی سے روک لے اوراپنے زائد مال کوخرچ کردے۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزکاۃ، فصل فی کراھیۃ ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۳۳۸۸،ج۳،ص۲۲۵، لسانہ:بدلہ: قولہ) حضرت سیِّدُنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:''کوئی شخص پروردگارِ کائنات کی رضاوالا ایساکلمہ کہتاہے جس کے بارے میں اس کاخیال نہیں ہوتاکہ وہ کس بلندی تک پہنچے گا مگراس کی وجہ سے پروردگارِ کائنات قیامت تک اس کے لیے اپنی رضالکھ دیتاہے اورکوئی آدمی پروردگارِ کائنات کی ناراضی والا ایک کلمہ کہتاہے ،حالاں کہ وہ شخص اسے معمولی سمجھتاہے لیکن پروردگارِ کائنات اس کے سبب قیامت تک اس کے لیے ناراضی لکھ دیتا ہے۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب النھی عن فضول الکلام والخوض فی الباطل، الحدیث۷۰،ج۷،ص۶۷۔۶۸) حضرت سیِّدُنا علقمہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے تھے: حضرت سیِّدُنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی اس روایت نے مجھے اکثرباتوں سے روکاہے کہ تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''ایک شخص ایسی بات کہتاہے جس کے ذریعے اپنے پاس بیٹھنے والوں کوہنساتا ہے ،مگر وہ اس کے باعث ثریا(ستارے)سے بھی زیادہ دور جا گرتا ہے ۔'' (الموسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب النھی عن فضول الکلام، الحدیث ۷۱، ج۷، ص۶۸۔۶۹)(3)گناہوں کے بارے میں کرنا: گناہوں کے متعلق گفتگوکرنا ، عورتوں کے حالات، شراب کی مجالس اوربدکاروں کے مقامات کا ذکر کرنا بھی گناہ ہے۔اسی جانب پروردگارِ کائنات کے اس فرمان میں اشارہ ہے:وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَآئِضِیۡنَ ۙ﴿45﴾یعنی: بیہودہ فکروالوں کے ساتھ بیہودہ فکر یں کرتے تھے۔ (پ29،المدثر:45)(4)بحث و مباحثہ کرنااورجھگڑنا: گذشتہ بیان کی گئی ممنوع چیزوں کے بارے میں جھگڑنا یا ان تک پہنچنے کی ترکیبیں بنانا بھی منع ہے۔تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمان ہے:لَا تُمَارِ اَخَاکَ وَلَا تُمَازِحْہ، وَلَا تَعِدْہُ مَوْعِدًا فَتُخْلِفَہ،۔یعنی:اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو،نہ اس سے مذاق کرو اور اس سے وعدہ کرو تو اس کی خلاف ورزی نہ کرو۔(جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی المراء، الحدیث۱۹۹۵، ص۱۸۵۲) تاج دارِ کائنات ﷺ مزید فرماتے ہیں:''جوشخص حق پرہونے کے باوجودجھگڑا چھوڑدے، اس کے لیے جنت کے اعلیٰ درجے میں گھربنایاجاتاہے، اورجو باطل ہونے کی وجہ سے جھگڑا چھوڑدے اس کے لیے جنت کے گردونواح میں گھربنایاجاتاہے۔ (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی المراء، الحدیث۱۹۹۳،ص۱۸۵۱، اعلٰی بدلہ وسط)(5) لڑائی جھگڑا کرنا: یعنی انسان کا دوسرے کاحق یامال حاصل کرنے کے لیے جھگڑنا اور یہ بھی قابلِ مذمت ہے۔اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہےکہ تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:اَبْغَضُ الرِّجَالِ اِلَی اللہِ اَلْاَلَدُّ الْخَصَمُیعنی:پروردگارِ کائنات کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو بہت زیادہ جھگڑا لو ہو۔(صحیح البخاری، کتاب المظالم، باب قول اﷲ تعالی:وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ، الحدیث۲۴۵۷، ص ۱۹۳) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ جَادَلَ فِی خُصُوْمَۃٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَمْ یَزَلْ فِیْ سُخْطِ اللہِ حَتّٰی یَنْزِعَ۔یعنی:جوشخص بے جاجھگڑتاہے، وہ ہمیشہ پروردگارِ کائنات کی ناراضی میں ہوتاہے ،یہاں تک کہ اسے چھوڑدے۔(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ذم الخصومات، الحدیث۱۵۳،ج۷،ص۱۱۱)(6)تکلّف اوربناوٹ سے بات چیت کرنا: تکلّف کے ساتھ بناوٹی کلام کرنا یہ بھی غلط ہے۔تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:اَنَاوَاَتْقِیَاءُ اُمَّتِیْ بَرَاءٌ مِّنَ التَّکَلُّفِ۔یعنی:میں اورمیری امت کے پرہیزگارلوگ تکلف سے بری ہیں ۔ حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ،تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''میری امت کے بُرے لوگ وہ ہیں جوطرح طرح کی نعمتوں سے پروان چڑھتے ہیں،مختلف قسم کے کھانے کھاتے ہیں، طرح طرح کے لباس پہنتے ہیں اور(تکلف کے ساتھ) گفتگو کرتے ہیں۔(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم۱۴۶۶۔عبدالحمید بن جعفر بن الحکم الانصاری،ج۷،ص۴)(7)گالی گلوچ اور بد گوئی کرنا: یہ بھی قابلِ مذمّت ہے۔جیسا کہ تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:اِیَّاکُمْ وَالْفُحْشَ فَاِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَاالتَّفَحُّشَ۔یعنی:فحش کلامی سے بچو،بے شک پروردگارِ کائنات فحش کلامی اور بتکلف فحش کلام کرنے کوپسندنہیں فرماتا۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الغصب، الحدیث۵۱۵۴،ج۷،ص۳۰۷) آپ ﷺ نے غزوۂ بدرمیں قتل ہونے والے مشرکین کوگالی دینے سے منع فرمایااور ارشاد فرمایا : ''اَلْبَذَاءُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ یعنی: فحش گوئی اور کثرتِ کلام نفاق کے دو شعبے ہیں۔'' (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی العَیِّ، الحدیث۲۰۲۷،ص۱۸۵۴)(8)لعنت کر نا: لعنت خواہ حیوانات وجمادات پرکی جائے یاانسان پر( مذموم ہے)،تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمانِ نصیحت نشان ہے : ''اَلْمُوْمِنُ لَیْسَ بِلَعَّانٍ یعنی:مؤمن لعنت کرنے والانہیں ہوتا۔'' (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی اللعنۃ، الحدیث۱۹۷۷،ص۱۸۵۰) حضرت سیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:'' جوقوم کسی پرلعنت بھیجتی ہے تو اس پرپروردگارِ کائنات کاعذاب ثابت ہو جاتا ہے۔'' اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاارشاد فرماتی ہیں، تاج دارِ کائنات ﷺ نے حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے ایک غلام کولعن طعن کرتے سنا ، تواُن کی طرف متوجہ ہو کردویاتین مرتبہ ارشاد فرمایا: ''اے ابوبکر!کیا صدیق بھی ہو اورلعن طعن بھی کرے ،ربِّ کعبہ کی قسم! ایسانہیں ہوسکتا۔''حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اسی دن اپناغلام آزاد کر دیا اور تاج دارِ کائنات ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہوئے اورعرض کی: '' میں دوبارہ یہ کلمات نہیں کہوں گا۔'' (الادب المفرد للبخاری، باب من لعن عبدہ فأعتقہ، الحدیث۳۲۲، ص۱۰۰۔۱۰۱)(9)گانے گانا اورشعرکہنا: گانے کے بارے میں سماع کے باب میں ذکرگزرچکا ہے،اورجہاں تک شعرکاتعلق ہے توکلام اچھاہوتواچھاہے اور برا ہو تو برا۔ لیکن شعر کہنے کو پیشہ بنا لینا مذموم ہے۔ جیسا کہ تاج دارِ کائنات ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:لَأَنْ یَّمْتَلِیَ بَطْنُ اَحَدِکُمْ قَیْحاً خَیْرٌ لَّہ، مِنْ أَنْ یَّمْتَلِیَ شِعْرًا۔یعنی:تم میں سے کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھرجانا اشعار سے بھر جانے سے بہتر ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب مایکرہ أن یکون الغالب علی الانسان الشِعْر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۱۵۴،ص ۵۱۹) (غلط)اشعار پر مداومت اختیارکرنااوران کے لیے سفرکرناممنوع ہے مگر صحیح اشعار کے جوازپربہت سی احادیث وارد ہیں۔(10) ہنسی مذاق کرنا : مزاح کی اصل یہ ہے کہ اس سے روکاگیاہے اوریہ مذموم ہے البتہ تھوڑاساہوتوجائزہے،تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمانِ عالی شان ہے : '' لَا تُمَارِ اَخَاکَ وَلاَ تُمَازِحْہ، یعنی:نہ اپنے بھائی کی بات کاٹو اور نہ اس کا مذاق اڑاؤ۔'' (جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی المراء، الحدیث۱۹۹۵، ص۱۸۵۲) جان لو!اس میں حد سے بڑھنا منع ہے کہ کثرتِ مذاق سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور نتیجۃً دِل مُردہ ہو جاتا ہے۔ تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمان ہے: ''اِنِّیْ لَأمْزَحُ وَلَااَقُوْلُ اِلَّاحَقًّا یعنی:میں مزاح کرتاہوں ،لیکن حق بات کے سواکچھ نہیں کہتا۔'' (أخلاق النبی لابی الشیخ الاصبہانی ،باب ما روی فی کظمہ الغیظ وحلمہ ،الحدیث۱۷۴،ج۱،ص۱۸۶) تاج دارِ کائنات ﷺ نے حضرت سیِّدُنا صہیب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:''تم کھجوریں کھارہے ہو،جب کہ تمھاری آنکھوں میں دردہے توحضرت سیِّدُنا صہیب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: '' میں دوسری طرف سے کھارہا ہوں۔'' یہ سُن کر آپ ﷺ مسکرادیے۔''(سنن ابن ماجۃ، ابواب الطب، باب الحمیۃ، الحدیث۳۴۴۳، ص۲۶۸۴)(11)مذاق اُڑانااورتَمَسْخُر کرنا: یہ بھی حرام ہے، پروردگارِ کائنات نے ارشادفرمایا:لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍیعنی:نہ مرد مردوں سے ہنسیں۔(پ26،الحُجُرٰت:11) اس کامعنٰی دوسرے کی توہین کرنا،اسے حقیرجاننااوراس کے عیبوں سے آگاہ کرنا ہے اور بعض اوقات یہ چیز اس کے قول وفعل کی نقل اتارنے کے ذریعے پائی جاتی ہے۔تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:''لوگوں کامذاق اڑانے والے کے لیے جنت کادروازہ کھولاجائے گااورکہاجائے گا آؤ! آؤ! وہ غم اور تکلیف کی حالت میں آئے گا جب وہ آئے گا تواس پردروازہ بندکردیاجائے گا۔ پھردوسرادروازہ کھولاجائے گا اور کہا جائے گاآؤ!آؤ!وہ غم والم میں آئے گا جب وہ آئے گاتواس پروہ دروازہ بندکردیاجائے گا،اسی طرح مسلسل ہوتارہے گا،یہاں تک کہ اس کے لیے دروازہ کھولاجائے گااورکہاجائے گاآؤ!آؤ!تووہ نہیں آئے گا۔''(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ما نُھی عنہ العباد ان یسخر بعضھم من بعض، الحدیث ۲۸۷،ج۷،ص۱۸۴) حضرت سَیِّدُنامعاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:مَنْ عَیَّرَاَخَاہُ بِذَنْبٍ قَدْ تَابَ مِنْہُ لَمْ یَمُتْ حَتّٰی یَعْمَلَہٗ۔یعنی:جوآدمی اپنے( مسلمان)بھائی کواس کے کسی گناہ پر عار دِلاتا ہے جس سے وہ توبہ کرچکاہو، توعار دِلانے والامرنے سے پہلے اس عمل میں مبتلاہوگا۔(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی وعید من عیرأخاہ بذنب، الحدیث۲۵۰۵،ص۱۹۰۳)(12) رازکوظاہرکرنا: کسی کے رازکوظاہرکرنے سے منع کیاگیاہے، کیوں کہ اس کے ذریعے تکلیف پہنچائی جاتی ہے اوردودسروں کے حق کو معمولی سمجھاجاتاہے،تاج دار، کائنات ﷺ کافرمانِ نصیحت نشان ہے: ''اَلْحَدِیْثُ بَیْنَکُمْ اَمَانَۃٌ یعنی:گفتگوتمہارے درمیان امانت ہے۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب حفظ السِر، الحدیث۴۰۶،ج۷،ص۲۴۴)(13)جھوٹاوعدہ کرنا: جھوٹاوعدہ کرنے سے بھی منع کیاگیاہے اوریہ نفاق کی علامات میں سے ہے،پروردگارِ کائنات کافرمانِ عالی شان ہے:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕیعنی:اے ایمان والو!اپنے قول پورے کرو۔ (پ6 ،المائدہ: 1) تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمان ہے:''اَلْعِدَۃُ عَطِیَّۃٌ یعنی:وعدہ پورا کرنا عطیہ ہے۔'' (المعجم الاوسط، الحدیث۱۷۵۲،ج۱،ص۴۷۵)(14)جھوٹ بولنا اورجھوٹی قسم کھانا: یہ نہایت قبیح گناہوں میں سے ہے ،مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے تاج دارِ کائنات ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعدخطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ''تاج دارِ کائنات ﷺ اس مقام پرتشریف فرما ہوئے، جہاں آج میں کھڑاہوں ،پھرآپ رضی اللہ عنہ روپڑے اور فرمایا:تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''اِیَّاکُمْ وَالْکِذْبَ،فَإنَّہ، مَعَ الْفَجُوْرِوَھُمَا فِی النَّار یعنی :جھوٹ سے بچوکیوں کہ جھوٹ بولنے والابدکارکے ساتھ ہوتا ہے اوروہ دونوں دوزخ میں ہوں گے۔'' (سنن ابن ماجۃ، ابواب الدعاء، باب الدعاء بالعفووالعافیۃ، الحدیث۳۸۴۹،ص۲۷۰۶)تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمانِ عبرت نشان ہے: ''اِنَّ الْکِذْبَ بَابٌ مِّنْ اَبْوَابِ النِّفَاقِ یعنی:بے شک جھوٹ منافقت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔''(مساوی الأخلاق للخرائطی، باب ماجاء فی الکذب وقبح ما أتی بہ أھلہ، الحدیث۱۰۷،ج۱، ص۱۱۷)(15)غیبت: ہم پہلے شریعت میں اس کے متعلق وارد ہونے والی مذمت کو ذکرکرتے ہیں ۔جیسا کہ پروردگارِ کائنات نے ارشاد فرمایا:وَلَا یَغْتَبۡ بَّعْضُکُمۡ بَعْضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًایعنی: ایک دوسرے کی غیبت نہ کروکیا تم میں کوئی پسند کرے گاکہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے۔ (پ26 ،الحُجُرٰت:12) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تاج دارِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا:'' ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، آپس میں بغض نہ رکھو،بیع نجش نہ کرو۔ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو،اے پروردگارِ کائنات کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔''(صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم ظلم المسلم ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۶۵۴۱،ص۱۱۲۷) (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب الغیبۃ وذمھا، الحدیث۱۶۳،ج۷،ص۱۱۶تا۱۱۷) تاج دارِ کائنات ﷺ کافرمان ہے:''غیبت سے بچو،بے شک غیبت زناسے سخت تر ہے، کیوں کہ جب آدمی زناکرکے توبہ کرتاہے توپروردگارِ کائنات اس کی توبہ قبول فرماتاہے اورغیبت کرنے والے کی بخشش اس وقت تک نہیں ہوتی ،جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی غیبت کی ہے۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب الغیبۃ وذمھا، الحدیث۱۶۴،ج۷، ص۱۱۸) حضرت سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تاج دارِ کائنات ﷺکافرمان ہے:'' شبِ معراج میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا،جواپنے چہروں کواپنے ناخنوں سے نوچ رہے تھے، میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا:''یہ کون لوگ ہیں؟ '' انہوں نے جواب دیا:''یہ وہ ہیں جولوگوں کی غیبت کرتے تھے اوران کی عزّتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب الغیبۃ وذمھا، الحدیث۱۶۵،ج۷،ص۱۱۸)پروردگارِ کائنات نے حضرت سَیِّدُناموسیٰ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کی طرف وحی بھیجی اور فرمایا:'' جو شخص غیبت سے توبہ کرتے ہوئے فوت ہوا، وہ جنت میں سب سے آخرمیں داخل ہوگا اورجو غیبت پراصرارکی حالت میں فوت ہوا، وہ جہنّم میں سب سے پہلے داخل ہو گا۔''غیبت کی تعریف: غیبت یہ ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کاذکران الفاظ میں کروکہ اگراس تک یہ بات پہنچے تووہ اِسے ناپسندکرے۔ خواہ تم اس کے بدن یا خاندان کے عیب کاذکرکرو یااس کی فعلی، قولی، دینی یادنیوی کوتاہی بیان کرو۔یہاں تک کہ اس کے لباس، مکان اور جانور کا عیب بیان کرنا بھی غیبت ہے۔ جان لو!غیبت کے سلسلے میں اشارۃً گفتگوکرنااورسمجھنا صراحتاًگفتگو کرنے کی طرح ہے اورایسی حرکت جس سے مقصود سمجھ میں آجائے اس میں اورصریح گفتگو کرنے میں کوئی فرق نہیں اورغیبت سننے والاغیبت کرنے والے کے ساتھ(گناہ میں) شریک ہوتاہے، غیبت توجہ سے سننا اورغیبت کرنے والے کی بات پر اظہارِتعجب بھی غیبت ہے ،کیوں کہ یہ بھی غیبت کرنے والے کی مدد کرنا اوراس کے ساتھ شریک ہوناہے۔ حضرت سیِّدُنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ ﷺ کافرمانِ بشارت نشان ہے:''جوشخص اپنے (مسلمان)بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت کرے، پروردگارِ کائنات کے ذمۂ کرم پرہے ، کہ وہ قیامت کے دن اس کی عزت کی حفاظت فرمائے گا۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ذب المسلم عن عرض أخیہ، الحدیث۲۴۰، ج۷، ص۹ ۱۵)غیبت کے کفارے کا بیان: جان لو! غیبت کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ شرمندہ ہو، توبہ کرے اور اپنے کئے پر افسوس کا اظہار کرے ،تاکہ پروردگارِ کائنات کے حق سے باہر آجائے۔ پھر جس کی غیبت کی تھی اس سے معافی مانگے تاکہ زیادتی سے برئ الذمہ ہو جائے۔ لیکن جب معافی مانگے تو غمگین اور شرمندہ ہو۔ اورحضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اِرشاد فرماتے ہیں:''غیبت کرنے والے کے لیے استغفار کافی ہے، معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔'' حضرت سَیِّدُنااَنَس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرﷺ کافرمانِ خوشبودارہے: ''کَفَّارَۃُ مَنِ اغْتَبْتَ اَنْ تَسْتَغْفِرَلَہٗ یعنی:غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی تم نے غیبت کی اس کے لیے دعائے مغفرت کرو۔'' (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب کفارۃ الاغتیاب، الحدیث۲۹۳،ج۷،ص۱۸۸۔۱۸۹) حضرت سیِّدُنا مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''جب تم اپنے بھائی کا گوشت کھاؤ( یعنی اُس کی غیبت کرو)، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کی تعریف کرو اور اس کے لیے بھلائی کی دعا مانگو۔'' بہتر یہی ہے کہ اظہارِ ندامت کے ساتھ ساتھ معافی مانگی جائے۔(16)چغلی کھانا: پروردگارِ کائنات نے ارشاد فرمایا:ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ11﴾یعنی:بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا۔ (پ29، القلم:11) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: '' غیر ثابت النسب(یعنی بغیر نکاح کے پیدا ہونے والا ) راز کو نہیں چھپاتا۔'' اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص(راز کی) بات کو نہیں چھپاتا اور چغلی کھاتا ہے، تو یہ اس کے حرامی ہونے کی دلیل ہے، انہوں نے پروردگارِ کائنات کے اس فرمان سے اِستدلال کیا ہے:عُتُـلٍّ بۢـَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ ﴿ۙ13﴾یعنی: دُرُشت خُو ا س سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا۔(پ29،القلم:13) زَنِیم سے مراد حرامی ہے اور پروردگارِ کائنات کا فرمانِ حقیقت نشان ہے :وَیۡلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِۣۙ﴿1﴾یعنی: خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے، پیٹھ پیچھے بدی کرے۔ (پ30، الہمزۃ: ا) ھُمَزَۃٍ سے مراد بہت زیادہ چغلی کھانے والا ہے۔پروردگارِ کائنات نے ارشاد فرمایا:حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ ۚ﴿4﴾یعنی: لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی۔ (پ30 ،اللہب:4) کہتے ہیں کہ وہ چغلی کھانے والی اور باتوں کو اِدھر اُدھر پہنچانے والی تھی۔پروردگارِ کائنات نے ارشاد فرمایا:فَخَانَتٰہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللہِ شَیْـًٔایعنی: پھر انہوں نے ان سے دغا کی تو وہ اللہ کے سامنے انھیں کچھ کام نہ آئے۔(پ28 ،التحریم:10)حدیث ِ پاک میں ارشاد ہے: ''لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ یعنی:چغل خور جنت میں داخل نہ ہوگا۔''(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب مایکرہ من النمیمۃ، الحدیث۶۰۵۶،ص۵۱۲) قتَّات سے مراد چغل خور ہے، اس کے متعلق بہت سی احادیث ِمبارکہ وارد ہیں۔چغلی کی تعریف: چغلی کی تعریف یہ ہے کہ ایسی بات ظاہر کرنا جس کا ظاہر کرنا ناپسند ہو۔خواہ وہ ناپسند کرے جس سے سنی گئی یا جس کےبارے ميں سنی گئی یا کوئی تیسراآدمی ناپسند کرے۔ خواہ بول کریا لکھ کر اس کا اظہار ہو یا اشارہ، کنایہ سے ہو۔ پس چغلی کی حقیقت پوشیدہ بات کو ظاہر کرنا اور اس سے پردہ ہٹانا ہے۔(17)منافقت: منافقت یہ ہے کہ کوئی شخص آپس میں مخالف دو اشخاص میں سے ہر ایک کے پاس جائے اورہر ایک سے اس کے موافق بات کرے، یہ عین نفاق ہے۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسررضی اللہ عنہماسے مروی ہے،حضور سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن ﷺ کافرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ کَانَ لَہٗ وَجْھَانِ فِی الدُّنْیَا کَانَ لَہٗ لِسَانَانِ مِنْ نَّارٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔یعنی:جو شخض دنیا میں دو چہروں والا ہو بروزِ قیامت اس کی آگ کی دوزبانیں ہوں گی۔(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی ذی الوجھین، الحدیث۴۸۷۳،ص۱۵۸۱) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبئ رحمت، شفیعِ امّت، قاسمِ نعمت ﷺ کافرمانِ عالیشان ہے:''بروزِقیامت تم پروردگارِ کائنات کے بندوں میں سے سب سے برا اس شخص کو پاؤ گے جس کے دوچہرے ہیں جواِدھر کچھ کہتا ہے اور اُدھر کچھ کہتا ہے۔'' دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں:''جو ان کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور دوسروں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے۔''(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب خیار الناس، الحدیث۶۴۵۴،ص۱۱۲۰) (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الصَّمْت وآداب اللِّسان، باب ذم ذی اللِّسانین، الحدیث۲۷۷، ج۷، ص۸ ۷ ۱۔۱۷۹)اخیر میں بارگاہ قاضی الحاجات میں دعا گو ہوں کہ موالے پاک اپنے محبوب پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل حضرت مخدوم پاک کے مرقد منور پہ رحمت و انوار کی بارشیں برسائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی یاد منانے اور ان کے نام نذر و نیاز کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بھی توفیق خیر مرحمت فرمائے۔آمین۔ یا رب العالمین۔ بجاہ النبی الامین۔صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ ومن تبعھم اجمعین۔
- Get link
- X
- Other Apps
रहमत व मग़फ़िरत की हसीन रात—शबे बरातलेखकः नासिर मनेरीसंपर्कः 9905763238۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔गर चाहते हो बख़शिश आई शबे बरात|कर लो ज़रा सी कोशिश आई शबे बरात|| नासिर मनेरी की है ये अर्ज़ दोस्तो!करवा लो रब से बख़शिश आई शबे बरात||शबे बरात की फज़ीलतःशाबान के महीने की बहुत फ़ज़ीलत आई है, हुज़ूर ने इसे अपना महीना क़रार दिया है, ख़ास कर इसकी पँद्रहवीं रात (यानी शबे बरात) की बहुत फ़ज़ीलत आई है| अल्लामा अब्दुल हक़ मुहद्दिस देहलवी अलैहिर्रहमा समेत बड़े बड़े मुहक़्क़िक़ों ने इस पर किताबें लिखीं और इमाम इब्ने माजा जैसे मुहद्दिस समेत बहुत से हदीस के इमामों ने इसके लिए बाब क़ायम किया| यहाँ सही हदीसों की रोशनी में इसके फ़ज़ाइल व मामूलात पेश किए जा रहे हैं :इमाम इब्ने माजा सही सनद के साथ हज़रत अली बिन अबी तालिब से रिवायत करते हैं कि हुज़ूर ने फरमायाः जब शाबान की पँद्रहवीं रात आ जाए तो उस रात को इबादत में गुज़ारो और उस के दिन में रोज़ा रखो, क्योंकि अल्लाह तआला सूरज डूबने के वक़्त से आसमान पर नुज़ूल फरमाता है और एलान करता है कि है कोई बख़शिश चाहने वाला कि मैं उसे बख़्श दूँ? है कोई रोज़ी माँगने वाला कि उसे रोज़ी दूँ? है कोई बीमार कि उसे शिफा दूँ? है कोई ऐसा? है कोई वैसा? और ये फजर के वक़्त तक फरमाता है| (सु-नने इब्ने माजा,हदीसः1388) लिहाज़ा जो भी अल्लाह की रहमत और बख़शीश व मग़फिरत चाहता हो उसे चाहिए कि ये रात इबादत में गुज़ारे और इस के दिन में रोज़ा रखे|शबे बरात की नमाज़ःमग़रिब की नमाज़ पढ़ने के बाद 6 रकअतें 2-2 कर के पढ़ें| पहली 2 रकअतों से पहले यूँ दुआ करेः ऐ अल्लाह! इन 2 रकअतों की बरकत से मुझे दराज़िए उम्र बिलख़ैर अता फरमा| दूसरी 2 रकअतों से पहले यूँ दुआ करेः ऐ अल्लाह! इन 2 रकअतों की बरकत से मुझे बलाओं से महफूज़ फरमा| तीसरी 2 रकअतों से पहले यूँ दुआ करेः ऐ अल्लाह! इन 2 रकअतों की बरकत से मुझे अपने अलावा किसी का मुहताज ना रख| हर रकअत में सू-रए फातिहा के बाद सू-रए इख़लास (क़ुल हुवल्लाह) 3 बार और हर दो रकअतों के बाद सू-रए इख़लास 21 बार पढ़ें| सू-रए यासीन भी 1 बार पढ़ या सुन लें, और हर सू-रए यासीन के बाद ये दुआ पढें :अल्लाहुम-म या ज़ल-मन्नि वला युमन्नु अलैह, या ज़ल-जलालि वल-इकराम, वया ज़त्तौलि वल-इनआम, ला इला-ह इल्ला अन्-त ज़हरुल्लाजीन, वजारुल मुस-तजीरी-न वअमानुल ख़ाइफ़ीन, अल्लाहुम्-म इन कुन-त क-तब-तनी इन्-द-क फ़ी उम्मिल किताबि शक़िय्या, औ महरूमन औ मतरूदन औ मुक़तरन अलय्-य फ़िर्रिज़्क़, फ़म्हुल्लाहुम्-म बिफ़ज़लि-क शक़ावती वहिरमानी वतरदी वक़ता-र रिज़क़ी, वअसबितनी इन-द-क फ़ी उम्मिल किताबि सईदम मरज़ूक़म मुवफ़्फ़क़ल लिल ख़ैरात, फ़इन्न-क क़ुल्-त व क़ौलुकल हक़्क़ु फ़ी किताबिकल मुनज़्ज़ल, अला लिसानि नबिय्यिकल मुरसल, “यम्हुल्लाहु मा यशाउ वयुसबितु वइन्दहू फ़ी उम्मिल किताब” इलाही बित्तजल्लिल आज़म, फ़ी लैलतिन निस्फ़ि मिन शहरि शअबानल मुकर्रम, अल्लज़ी युफ़रक़ु फ़ीहा कुल्लु अमरिन हकीमिँव वयुबरम, अन तकशिफ़ अन्ना मिनल बलाइ वल-बलवाइ मा नअलमु वमा ला नअलम, वअन-त बिही आलम, इन्न-क अन्तल अअज़्ज़ुल अकरम, वसल्लल लाहु त्आला अला सय्यिदिना मुहम्मदिँव वअला आलिहि वअसहाबिही वसल्लम, वलहम्दु लिल्लाहि रब्बिल आ-लमीन|(मा ज़ा फ़ी शअबान, पेजः105,अज़ अल्लामा अलवी मालिकी मक्की अलैहिर्रहमा)शबे बरात का रोज़ाःशाबान के महीने और ख़ास तौर से शबे बरात के रोज़े की बड़ी फ़ज़ीलत आई है| इमाम नसई सही सनद के साथ हज़रत उसामा बिन ज़ैद से रिवायत करते हैं कि उन्होंने हुज़ूर से अर्ज़ कीः या रसूलल्लाह! जिस क़दर आप शाबान में रोज़े रखते हैं किसी और महीने में नहीं रखते? हुज़ूर ने फरमायाः ये ऐसा महीना है, जो रजब और रमज़ान के बीच में आता है और लोग इस से ग़फलत बरतते हैं, हालाँकि इस महीने में पूरे साल के अमल अल्लाह को पेश किये जाते हैं लिहाज़ा मैं चाहता हूँ कि मेरा अमल रोज़ादार होने की हालत में उठाया जाए| (सु-नने नसई, हदीसः2357)लिहाज़ा इस महीने में ज़्यादा से ज़्यादा रोज़े रखें, ख़ास कर शबे बरात का रोज़ा ज़रूर रखें|शबे बरात का वज़ीफ़ाःशबे बरात के मुक़द्दस मौक़े पर यह दुआ ज़यादा से पढ़ी जाए, साहिबे मिशकात अल्लामा तबरेज़ी फरमाते हैं कि यह दुआ हुज़ूर से साबित है| अल्लाहुम्म इन्न-क अफ़ुव्वन तुहिब्बुल अफ़्-व फ़अफ़ू अन्नी| (मिशकात शरीफ, 1/183) यह दुआ ज़्यादा से ज़्यादा पढ़ें |शबे बरात का हलवाःशबे बरात के पुर बहार मौक़े पर हलवा या फातिहा व ईसाले सवाब के लिए दूसरे खाने पकाना ना तो फ़र्ज़ या वाजिब है और ना ही नाजायज़ व हराम बल्कि दूसरे खानो की तरह इसे पकाना भी एक जायज़ और मुबाह काम है और अगर इस नेक नियती के साथ हो कि अच्छा खाना पका कर ग़रीबों, मिस्कीनों और ज़रूरत मंदों को खिलाए तो ये सवाब का काम है| और हल्वा (शीरीनी, मिठाई, मीठी चीज़) चूँकि हुज़ूर पसंद फरमाया करते थे जैसा कि हदीसे पाक में है इमाम बुख़ारी सही सनद के साथ हज़रत आएशा से रिवायत करते हैं कि हुज़ूर हल्वा (मीठी चीज़) और शहद पसंद करते थै|(बुख़ारी शरीफ, हदीसः5268)लिहाज़ा इसे पका कर बुज़र्गों के नाम ईसाले सवाब करना (फातिहा दिलाना) भी जायज़ काम है और इसे हराम या शिर्क कहना अक़्ल व शरीअत के ख़िलाफ है|क़ब्रिस्तान जानाःकब्रों की ज़ियारत के लिए जाना सुन्नत है| हुज़ूर ने क़ब्रों की ज़ियारत की है और इस का हुक्म भी दिया है| इस के फायदे और बरकतें भी बताई हैं, हदीसे पाक में इमाम मुस्लिम सही सनद के साथ हज़रत अबू हुरैरा से रिवायत करते हैं कि हुज़ूर ने फरमायाः क़ब्रों की ज़ियारत करो इसलिए कि वो दुनिया से बे रग़बत करती और आख़िरत की याद दिलाती है| (मुस्लिम शरीफ, हदीसः2148)जब क़ब्र पर जाएँ तो पहले सलाम पेश करें, इमाम तिर्मिज़ी सही सनद के साथ हज़रत इब्ने अब्बास से रिवायत करते हैं कि हुज़ूर जब मदीने के क़ब्रिस्तान से गुज़रे तो यूँ कहाः अस्सलामो अलैकुम या अहलल क़ुबूर, यग़फ़िरुल्लाहु लना वलकुम, अन्तुम सलफुना व नहनु बिलअसर| (तिर्मिज़ी शरीफ, हदीसः1055)फिर पाइँती की जानिब से जा कर मय्यत के चेहरे के सामने खड़े हों और फातिहा पढ़ें| (दुर्रे मुख़तार,3/179)आतिशबाज़ीःशबे बरात जहन्नम की भड़कती आग से बराअत(यानी छुटकारा पाने) की रात है मगर अफसोस सद करोड़ अफसोस कि इस रात बहुत से मुसलमान जहन्नम की आग से छुटकारा हासिल करने की बजाय ढ़ेर सारे रूपये पैसे ख़र्च कर के अपने लिए आतिशबाज़ी का सामान खरीदते हैं और ख़ूब पटाख़े वग़ैरा छोड़ कर इस मुक़द्दस रात का तक़द्दुस पामाल करते हैं| जब्कि आतिशबाज़ी (यानी पटाख़े वग़ैरा छोड़ना) हराम हराम सख़्त हराम और जहन्नम में ले जाने वाला काम है|अल्लाह से दुआ है कि हमें यह रात इबादत में गुज़ारने की तौफ़ीक़ अता फरमाए और घूमने फिरने व पटाख़े छोड़ने से बचने की तौफीक़ अता फरमाए| आमीन
- Get link
- X
- Other Apps
رحمت و مغفرت کی حسین رات—شب براءتتحریر : ناصرؔ منیریرابطہ نمبر: 9905763238۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گر چاہتے ہو بخشش آئی شبِ براتکر لو ذرا سی کوشش آئی شبِ براءتناصرؔ منیری کی ہے یہ عرض دوستو!کروا لو رب سے بخشش آئی شبِ براتشب براءت کی فضیلت :شعبان کے مہینے کی بہت فضیلت آئی ہے، حضور نے اسے اپنا مہینہ قرار دیا ہے۔ خاص کر اس کی پندرہویں رات(شبِ برات) کی بے انتہا فضیلت آئی ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ جیسے محقق سمیت بڑے بڑے محققین نے اس پر کتابیں لکھیں اور امام ابن ماجہ جیسے محدث سمیت بیش تر ائمۂ حدیث نے اس کے لیے باب قائم کیا۔ ذیل میں صحیح حدیثوں کی روشنی میں اس کے فضائل و معمولات پیش کیے جا رہے ہیں۔امام ابن ماجہ صحیح سند کے ساتھ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں رات(شبِ برات) آ جائے تو اس رات کو عبادت میں گذارو اور اس کے دن میں روزہ رکھو، کیوں کہ اللہ پاک سورج ڈوبنے کے وقت سے آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اسے بخش دوں؟ہے کوئی روزی مانگنے والا کہ اسے روزی دوں؟ہے کوئی بیمار کہ اسے شفا دوں؟ہے کوئی ایسا؟ہے کوئی ویسا؟اور یہ فجر کے وقت تک فرماتا ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان، حدیث نمبر: 1388) لہذا جو بھی اللہ کی رحمت اور بخشش و مغفرت چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ یہ رات عبادت میں گذارے اور اس کے دن میں روزہ رکھے۔شب براءت کی نماز :مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد چھ رکعتیں دو دو کر کے پڑھیں۔ پہلی دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے یوں دعا کریں : اے اللہ! ان دو رکعتوں کی برکت سے مجھے درازیِ عمر بالخیر عطا فرما۔ دوسری دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے یوں دعا کریں : اے اللہ! ان دو رکعتوں کی برکت سے مجھے بلاؤں سے محفوظ فرما۔ تیسری دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے یوں دعا کریں : اے اللہ! ان دو رکعتوں کی برکت سے مجھے اپنے علاوہ کسی کا محتاج نہ رکھ۔ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص تین بار اور ہر دو رکعتوں کے بعد سورۂ اخلاص اکیس بار پڑھیں، سورۂ یاسین بھی ایک بار پڑھ یا سن لیں۔ اور ہر سورۂ یاسین کے بعد یہ دعا پڑھیں :اَللّٰھُمَّ یَا ذَا الْمَنِّ وَلَا یُمَنُّ عَلَیْہِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ وَ یَا ذَا الطَّوْلِ وَاالْاِنْعَامِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ظَھْرُ الَّاجِیْنَ وَجَارُ الْمُسْتَجِیْرِیْنَ وَاَمَانُ الْخَائِفِیْنَ اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ عِنْدَکَ فِیْ اُمِّ الْکِتَابِ شَقِیًّا اَوْ مَحْرُوْمًا اَوْ مَطْرُوْدًا اَوْ مُقْتَرًا عَلَیَّ فیِ الرِّزْقِ فَامْحُ اللّٰھُمَّ بِفَضْلِکَ شَقَاوَتِیْ وَحِرْمَانیِ ْ وَطَرْدِیْ وَاقْتَارَ رِزْقِیْ وَ اَثْبِتْنِیْ عِنْدَکَ فیِ ْاُمِّ الْکِتَابِ سَعِیْدًا مَّرْزُوْقًا مُّوَفِّقًا لِلْخَیْرَاتِ فَاِنَّکَ قُلْتَ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ فِیْ کِتَابِکَ الْمُنَزَّلِ عَلٰیٰ لِسَانِ نَبِیِّکَ الْمُرْسَلِ "یَمْحُو اللہُ مَا یَشَاءُ وَ یُثْبِتُ وَعِنْدَہٗ فِیْ اُمِّ الْکِتَاب" اِلٰھِیْ بِالتَّجَلِّی الْاَعْظَمِ فِیْ لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَھْرِ شَعْبَانَ الْمُکَرَّمِ الَّذِیْ یُفْرَقُ فِیْھَا کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ وَّ یُبْرََمُ اَنْ نَکْشِفَ عَنَّا مِنَ الْبَلَاءِ وَالْبَلْوَاءِ مَا نَعْلَمُ وَمَا لَا نَعْلَمُ، وَ اَنْتَ بِہ اَعْلَمْ، اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمِ، وَصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ علَیٰ سَیِّدِنَا مُحَمّدٍ وَّ عَلیٰ آلِہ وَاَصْحَابِہ وَسَلَّمَ، وَالْحَمْدُ لِلًّہ ِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔(یہ دعا محدثِ مکہ علامہ محمد بن علوی مالکی علیہ الرحمہ نے اپنی تحقیقی کتاب “ماذا فی شعبان” کے صفحہ نمبر: 105پہ تحریر کی ہے اور اس کا بیش تر حصہ قرآن و حدیث سے ثابت کیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے مصنفین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں درج کی ہے۔ )شب براءت کا روزہ :شعبان کے مہینے اور خاص طور سے شب براءت کے روزے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔امام نسائی صحیح سند کے ساتھ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضور ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ! جس قدر آپ شعبان میں روزے رکھتے ہیں کسی اور مہینے میں روزے نہیں رکھتے؟ حضور نے فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے جو رجب اور رمضان کے بیچ میں آتا ہے اور لوگ اس سے غفلت برتتے ہیں۔ حالاں کہ اس میں پورے سال کے عمل اللہ کو پیش کیے جاتے ہیں لہذا میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل روزہ دار ہونے کی حالت میں اٹھایا جائے۔(سنن نسائی، کتاب الصیام، باب صوم النبیﷺ،حدیث نمبر:2357 )لہذا اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزہ رکھیں، خاص کر شب براءت کا روزہ ضرور رکھیں۔شب براءت کا وظیفہ :شب براءت کے مقدس موقع پر یہ دعاکثرت سے سے پڑھی جائے۔ صاحب مشکات فرماتے ہیں کہ یہ دعا رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔(مشکاۃ المصابیح، 1/183)یہ کثرت سے پڑھیں۔شب براءت کا حلوا :شب براءت کے پر بہار موقع پر حلوا یا فاتحہ و ایصال ثواب کے لیے دوسرے کھانے پکانا نہ تو فرض و واجب ہے اور نہ ہی ناجائز و حرام۔ بلکہ دوسرے کھانوں کی طرح اسے پکانا بھی ایک جائز اور مباح کام ہے۔ اور اگر اس نیک نیتی کے ساتھ ہو کہ اچھا کھانا پکا کر غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو کھلائے تو یہ ثواب کا کام ہے۔ اور حلوا (شیرینی، مٹھائی، میٹھی چیز) چوں کہ رسول پاک ﷺ پسند فرمایا کرتے تھے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : امام بخاری صحیح سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حلوا (میٹھی چیز) اور شہد پسند فرماتے تھے۔(بخاری شریف، کتاب الطلاق، باب لم تحرم ما احل اللہ لک، حدیث:5268) لہذا اسے پکا کر بزرگوں کے نام ایصال ثواب کرنا(فاتحہ دلانا) بھی جائز اور ثواب کا کام ہے۔ اور اسے حرام یا شرک کہنا عقل و شرع کے خلاف ہے۔زیارت قبور :قبروں کی زیارت کے لیے جانا سنت ہے۔ حضور ﷺ نے قبروں کی زیارت فرمائی ہے۔ اور اس کا حکم بھی دیا ہے۔ اس کے فائدے اور برکتیں بھی بتائی ہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: امام مسلم صحیح سند کے ساتھ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: قبروں کی زیارت کرو اس لیے کہ وہ دنیا سے بے رغبت کرتی اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔ (مسلم شریف، کتاب الجنائز، باب استئذان النبی ربہ فی زیارۃ قبر امہ، حدیث: 2148) جب قبر پر جائیں تو پہلے سلام پیش کریں: امام ترمذی صحیح سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ جب مدینے کے قبرستان سے گذرے تو یوں کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَ نَحْنُ بِالْاَثَرِ (ترمذی شریف، کتاب الجنائز، باب ما یقول الرجل اذا دخل المقابر، حدیث: 1055)پھر پائینتی کی جانب سے جاکر میت کے چہرے کے سامنے کھڑے ہوں اور فاتحہ پڑھیں۔(دُرِّ مُختار، کتاب الصلاۃ، باب: صلاۃ الجنازۃ،ج:3، ص:179)آتش بازی :شب براءت جہنم کی بھڑکتی آگ سے براءت (یعنی چھُٹکارا پانے) کی رات ہے۔ مگر افسوس صد کروڑ افسوس! کہ اس رات بہت سے مسلمان نارِ جہنم سے چھُٹکارا حاصل کرنے کی بجاے ڈھیر سارے روپے پیسے خرچ کر کے اپنے لیے آتش بازی کے سامان خریدتے ہیں اور خوب پٹاخے وغیرہ چھوڑ کر اس مقدس رات کا تقدس پامال کرتے ہیں۔ جب کہ آتش بازی (یعنی پٹاخے وغیرہ چھوڑنا) حرام حرام اشد حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ سے دعا ہے ہمیں یہ رات عبادت میں گذارنے کی سعادت نصیب فرمائےاور اس دن گھومنے،پھرنے، پٹاخے چھوڑنے اور ہر بے کار کام سے بچائے۔ آمین۔
- Get link
- X
- Other Apps
- Get link
- X
- Other Apps
سلطان المخدومین حضرت سیدنا کمال الدین یحیی منیری علیہ الرحمہ کا ذکرِ خیر از قلم: ناچیز ناصر منیری کان اللہ لہ ڈائریکٹر: ریسرچ سینٹر، خانقاہ منیر شریف، پٹنہ رابطہ نمبر: 9905763238 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان المخدومین، زین الساجدین، برہان العاشقین، زبدة السالکین، تاج العارفین، والدِ مخدومِ جہاں، شہزادہء قطب زماں، نبیرہء تاج الفقہا حضرت سیدنا مخدوم کمال الدین احمد یحییٰ منیری رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ عنا اپنے وقت کے جلیل القدر، عظیم المرتبت، رفیع الدرجت، فقید المثال اور عدیم النظیر صوفی بزرگ گذرے ہیں۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے عظیم صوفیہ میں ہوتا ہے۔ آپ مذہب مہذب اسلام کے مخلص داعی، تصوف و روحانیت کے سچے مبلغ، علوم دینیہ کے اچھے مدرس، اولیا و صوفیہ کے لائق و فائق نقیب اور 'العلماء ورثة الانبیا' کے بہترین مصداق تھے۔ منیر شریف اور اس کے اطراف و اکناف میں آپ نے جو شمع اسلام روشن فرمائی ہے وہ اب تک درخشاں و تاباں ہے۔ دعوت و تبلیغ، تصوف و روحانیت اور رشد و ہدایت کے باب میں آپ کی خدمات کافی اہمیت کی متحمل ہیں۔ ذیل میں آپ کی حی...